میں نالائق نہیں تھی ۔۔۔۔

 "میں نالائق نہیں تھی..."


میں پانچویں جماعت میں تھی جب ابو کی پوسٹنگ کی وجہ سے ہمیں ایک شہر چھوڑ کر دوسرے شہر جانا پڑا۔ نیا شہر، نیا اسکول، نئے چہرے ..سب کچھ میرے لیے بالکل اجنبی اور مختلف تھا۔ میں ایک خاموش مزاج، کم گو اور خود میں رہنے والی لڑکی تھی ..یعنی ایک انٹروورٹ۔ اسی وجہ سے نئے ماحول، نئے لوگوں اور نئی جگہ کا تصور ہی میرے لیے پریشانی اور گھبراہٹ کا باعث بن رہا تھا۔


اسکول کے پہلے دن، راستہ پوچھتے پوچھتے جب میں اپنی متعین کلاس تک پہنچی، تو ایسا محسوس ہوا جیسے ہر نگاہ میری طرف ہی اٹھ رہی ہو۔ ایک انجانی سی گھبراہٹ نے میرے قدم روک لیے۔ مگر خود کو سنبھالتے ہوئے میں ایک خالی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی۔


کچھ لڑکیاں میرے گرد جمع ہو گئیں، جیسے کسی نئی آنے والی طالبہ کے بارے میں جاننے کا تجسس اُن کے دلوں میں ہو۔مجھ سے مختلف سوالات کیے گیے 

میرے پرانے اسکول کا نام، میرا تعلق کس شہر سے ہے، میرے نمبرز اور میری سابقہ پوزیشنز۔جب میں نے انھیں اپنے ماضی کے نتائج بتائے تو اُن کے چہروں پر حیرت اور بے یقینی کے آثار نمایاں ہو گئے۔

انھیں لگا جیسے کوئی خاص طالبہ اُن کی کلاس میں آ گئی ہو، شاید اسی لیے کئی ایک پرجوش تھیں کہ موجودہ ٹاپر کو ٹکر دینے والی کوئی آگئی ہے۔مجھے بھی تھوڑا حوصلہ ملا اور میں نے بھی اُن سے سوالات کیے۔

پتا چلا کہ اُن کی کلاس میں ایک لڑکی ہے جو ہمیشہ پہلی پوزیشن لیتی ہے اور کبھی دوسرے نمبر پر آ کر بھی سمجھوتہ نہیں کرتی۔میں بہت متجسس ہوئی۔


کچھ دن یونہی گزرے۔

لیکن میری خاموشی اور گھبراہٹ جوں کی توں برقرار رہی۔نہ مجھے کوئی سمجھ آتی تھی، نہ کوئی دوست بنی۔نہ کسی نے میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا، اور نہ ہی میں میں نے۔یوں ہی ایک ہفتہ گزر گیا۔


پھر ایک دن وہی کلاس کی ٹاپر لڑکی میرے پاس آئی اور دوستی کی پیشکش کی۔میں نے فوراً ہامی بھر لی۔


دو دن تک میں اُس کے ساتھ رہی۔ اُس کی پہلے سے 3-4 دوستیں تھیں جو مجھے بڑا پروٹوکول دے رہی تھیں۔اگلے دن، میتھ کی ٹیچر ..جو کافی غصیلی مشہور تھیں ..نے مجھے کھڑا کر کے فریکشنل ڈویژن کے سوالات پوچھنے شروع کر دیے۔


میں ایک دم خالی ہو گئی۔ذہن سُن ہو چکا تھا، کچھ سمجھ نہ آیا۔ابھی کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ٹیچر نے طنز شروع کر دیا۔میں پوری کلاس کے سامنے شرمندگی کے مارے رونے لگی۔


ٹیچر کی جھاڑ اور کلاس کی نظروں کے بعد جب میں اپنی سیٹ پر واپس بیٹھی، تو وہی نئی دوست بولی:

"ہم دوست نہیں رکھ سکتے، تم تو بہت نالائق ہو۔"

یہ جملہ میرے دل کو کاٹ گیا۔





انہوں نے مجھے کہا کہ اپنا بیگ اٹھاؤ اور کسی اور جگہ جا کر بیٹھو۔میں بالکل شل ہو گئی تھی۔میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔میں خاموشی سے اُٹھ کر دوسری طرف جا کر بیٹھ گئی۔


مجھے سُنایا گیا:

"اتنے آسان سوال بھی نہیں آتے تمہیں؟"اور میں بس سنتی رہی۔


مگر وقت نے خود فیصلہ کرنا تھا۔اسکول کے ہر رزلٹ میں میں اُس سے بہتر نمبر لینے لگی۔رفتہ رفتہ اُس کا رویہ میرے ساتھ بہتر ہوتا گیا۔لیکن میں نے کبھی اُس ایک دن کی ذلت کو بنیاد بنا کر اُس کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی۔آخرکار بورڈ کے فائنل امتحانات میں میرے اُس سے کہیں زیادہ نمبر آئے۔


---



کیا ہم صرف ایک لمحے میں فیصلہ سنا سکتے ہیں؟


ہم لوگ کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں کو پرکھ لیتے ہیں؟

کیوں کسی ایک غلطی یا کمزوری کی بنیاد پر کسی کو "نالائق"، "کمزور" یا "بے وقوف" قرار دے دیتے ہیں؟

ہمیں کس نے حق دیا کہ کسی کی صلاحیتوں کا فیصلہ محض ایک سوال، ایک دن، یا ایک لمحے میں کر دیں؟

ہم کیوں کسی کو اُس کے چہرے، نمبر، یا اندازِ گفتگو سے جج کرتے ہیں؟


ہمیں شاید اندازہ نہیں ہوتا، لیکن ہمارا کہا گیا ایک جملہ کسی کے اعتماد کو ہمیشہ کے لیے مجروح کر سکتا ہے۔


---


ہر طالبعلم کا ایک وقت ہوتا ہے۔

کسی کو وقت پر چمکنے کا موقع ملتا ہے، اور کسی کو تھوڑا وقت درکار ہوتا ہے۔

لیکن کوئی بھی نالائق نہیں ہوتا — بس کبھی کبھار اُسے صحیح وقت، صحیح رہنمائی اور تھوڑا سا یقین چاہیے ہوتا ہے۔


---


کیا آپ نے بھی کبھی کسی کو صرف ظاہری طور پر دیکھ کر جج کیا؟

یا آپ خود بھی کسی کے لفظوں سے ٹوٹ چکے ہیں؟

اپنے خیالات ضرور شیئر کیجیے۔آپ کی کہانی شاید کسی اور کے زخموں پر مرہم رکھ دے۔


---


"کبھی کسی کے خاموش رہنے کو نالائقی نہ سمجھو،

کبھی کسی کی ایک غلطی پر اُس کی قابلیت کا فیصلہ نہ سناؤ۔

یہ کہانی ہے ایک لڑکی کی…جو کل نالائق کہلائی، اور آج سبقت لے گئی!

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کتابیں۔۔محبت اور میں

میں عام نہیں ہوں

"ہر بچہ خاص ہے ۔۔موازنہ نہیں، محبت دیں"