AGAAZ
سیکھنے کی ابتدا
میں اس وقت پہلی جماعت میں پڑھتی تھی ؛ سکول میں تقریری مقابلہ تھا اور میں نے اس میں حصہ لیا
میں عموماً نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں ملوث رہا کرتی تھی ۔ تقریر کا موضوع تو یاد نہیں مگر میں نے دل لگا کر تیاری کرنا شروع کر دی ۔
بڑی محنت سے میں نے اتنی اتنی لمبی لائینیں یاد کی جو کہ ایک 6 7 سال کے بچے کے لیے خاصہ مشکل ہے.مگر میں نے کر ہی لیا اور فاینل راؤنڈ کے لیے منتخب ہو ہی گئی ۔
سٹیج سج چکا تھا سارے سکول کے طلبہ کو اسمبلی ہال میں جمع کیا گیا ۔ججس کے لیے صوفوں کا انتظام تھا اور ہماری سپورٹس کی ٹیچر نے باقاعدہ تقریب کا آغاز کیا
میم عائشہ نے سٹیج پر بھیجنے سے پہلے ایک مرتبہ سب سے سننا شروع کی جب میری باری آئی تو میں بالکل خاموش ہو گئی ۔۔ میرے منہ سے ایک لفظ تک ادا نہ ہوا میرے ذہن نے مری زباں کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ مجھے تو ارد گرد کی آوازیں سنائی دینا بند ہو گئی ۔۔۔میں انہیں کیا بتاتی میری اپنے آپ سے جنگ چل رہی ہے ۔۔۔ بد قسمتی سے وہ کاغذ جس کو پورا ہفتہ میں نے خود سے دور نہیں ہونے دیا اور جس کو پڑھ پڑھ کر اسکی سیاہی بھی مانندِ پر گئی ہے اس وقت جماعت میں موجود میرے بیگ میں رہ گیا ہے
شور تھم گیا ,میم نے بھی مجھے بازو سے پکڑ کر ایک طرف بٹھا دیا میں کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی فاؤل کر بیٹھی تھی
اصل میں تقریر کا پہلا لفظ "بخدمت جناب" میرے ذہن سے محو ہو گیا تھا ۔۔لاکھ جتن کیے ۔۔ دماغ پر زور دیا مگر مجال ہے جو یاد آیا ہو ۔۔۔ ٹیوشن والی باجی نے لفظ بھی ایسا چن کر رکھا تھا کہ آج 12 سال گزرنے کے بعد بھی ذہن سے نہیں جاتا ۔
پھر کیا پوری تقریب اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھی اور انعام ملتے وقت ناجانے آنکھیں نم سی ہو گئی ۔
آغاز ہمیشہ آسان مرحلے سے کریں پھر دوسرے تیسرے اور چوتھے لیول پر جائیں زندگی سہل ہو جائے گی ۔ ہر چھوٹا اور پہلا قدم بڑا انقلاب لاتا ہے میں اس دن جیت نہیں سکی مگر سیکھ لیا ۔پہلے ہی مرحلے میں خود کے لیے مشکل نہ چنے 👏🏻
شکریہ!
Perfect 🤌🏻
جواب دیںحذف کریں🤞🏻👏🏻
جواب دیںحذف کریںBilkul 🙌💫
جواب دیںحذف کریں